(کلام پیر مہر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ)

(کلام پیر مہر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ)

اج سک متراں دی ودھیری اے
کیوں دلڑی اداس گھنیری اے
لوں لوں وچ شوق چنگیری اے
اج نیناں لائیاں کیوں جھڑیاں

(آج محبوب علیہ الصلوۃٰ والسلام کی بہت زیادہ یاد آرہی ہے، نہ جانے دل کی نگری اتنی ادا س کیوں ہے۔ رگ رگ میں عشق کی چنگاریاں امڈ رہی ہیں۔ نہ جانے کیوں آج آنکھوں سے آنسو ر ک نہیں رہے۔ )

.مکھ چند بدر شاہ شانی اے
متھے چمکدی لاٹ نورانی اے
کالی زلف تے اکھ مستانی اے
مخمور اکھیں ہن مدھ بھریاں

(آقا علیہ الصلوۃٰ والسلام کا چہرہ چودھویں کے چاند کی زینت لئے ہوئے ہے، اور اُن کے ماتھے پر نورانی ابرو چمکتے ہیں۔ زلفیں سیاہ ہیں اور آنکھیں مست کردینےوالی ہیں۔ اور ان کی مخمور آنکھیں انتہائی نشیلی ہیں۔)

دو ابرو قوس مثال دِسن
جے تھی نوکِ مژاں دے تیرچھُٹن
لباں سرخ آکھاں کہ لعلِ یمن
چٹے دند موتی دیاں ہن لڑیاں

(آقا علیہ الصلوۃٰ والسلام کی ابرو مبارک ایسے نظر آتی ہے کہ جیسےکوئی کمان ہو۔ اور پلکوں کا یہ عالم ہے کہ ایسے لگتا ہے کہ جیسے ابرو کی کمان سے تیر چھوڑے گئے ہوں۔ ان کے ہونٹ لعلِ یمن جیسے سرخ ، اور دانت ایسے ہیں جیسے سفید موتیوں کی کوئی لڑی ہو۔)

اے صورت شالا پیشِ نظر
رہوے وقتِ نزع تے روزِ حشر
وچ قبر تے پُل تھی جد ہو سی گزر
سب کھوٹیاں تھی سن صد کھریاں

(میری دعا ہے کہ آقا علیہ الصلوۃٰ والسلام کی صورت کا دیدار مجھے مرتے دم بھی ہو، اور قیامت کے دن بھی ہو۔ جب قبر میں اور پل صراط پر اُنکا جلوہ دیکھنے کو ملا ہو گا، تو ہر بگڑا کام بن جائے گا۔ )

حجرے تھی مسجد آؤ ڈھولن
من بھاونی جھلک دکھاؤ مٹھن
تے اُو ہاں مٹھیاں گالیاں لاؤ مٹھن
جیہڑیاں حمرا وادی سن کریاں

(حضرت پیر مہر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ مدینہ منورہ کی طرف عازمِ سفر تھے کہ رات کو وادیِ حمرا میں قیام پذیر ہوئے،عشاء کی نماز ادا فرمائی مگر اس نماز میں سنتِ غیر موکدہ نہیں اداکیں۔ نماز ادا کر کے خود تو سو گئے مگر قسمت بیدار ہوئی اور میرے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں تشریف لائے۔ اور استسفار فرمایا کہ آج میرے بیٹے نے میری سنت کیوں چھوڑ دی۔ جب بیدار ہوئے تو پھر یہ نعت تحریر فرمائی ۔ اس شعر میں وہ روضہِ پاک پر جا کر کہتے ہیں کہ اب حجرے سے باہر مسجد میں تشریف لائیے اور اپنی خوبصورت شکل مبارک کا دید ار کروائیے۔ اور مجھ سے وہی میٹھی میٹھی باتیں فرمائیے جو آپ نے وادیِ حمرا میں کی تھیں۔ )

سبحان اللہ ما اجمَلَکَ
ما احسَنَکَ ما اکمَلَکَ
کیتھے مہر علی کیتھے تیری ثنا
گستاخ اکھیاں کیتھے جا لڑیاں

(اللہ پاک ہے کہ اتنا خوبصورت ، اتنا احسن ، اتنا مکمل چہرہ ِ مبار ک تخلیق فرمایا۔ کہاں مہر علی اور کہاں آپ علیہ الصلو ۃٰ السلام کے آگے کے دو دانت ، میری گستاخ آنکھوں نے کیا خوبصورت منظردیکھ لیا ہے۔ )

Comments

Popular posts from this blog

Zikr and Muraqbah

Types of Zikr

Principles of Zikr